ماہ نامہ بچوں کا باغ کا سرورق

ماہنامہ بچوں کا باغ کے 50 سال

عبید رضا

اردو میں بچوں کے رسائل کی تاریخ یوں تو سوا صدی پر محیط ہے، نہ جانے کتنے رسائل شروع ہو ئے، اور بند ہو چکے، لیکن کچھ رسائل کا سفر طویل رہا، ہفت روزہ پھول 1909ء سے 1958ء تک اس کی ایک مثال ہے۔ لیکن اس وقت جو شائع ہو رہے ہیں ان رسائل میں، سب سے قدیم رسالہ تعلیم و تربیت ہے، جو84 سال سے مسلسل شائع ہو رہا ہے، اس کے بعد دوسرا قدیم ترین رسالہ بچوں کی دنیا ہے، جو 78 سال سے شائع ہو رہا ہے۔ جب کہ ہمدرد نونہال 73 سال سے اور ماہنامہ بقعۂ نور (سابقہ نام نور) 64 سال سے شائع ہو رہا ہے۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے، بچوں کا باغ اور جگنو کا یہ دونوں رسالے اس سال اپنی گولڈن جوبلی منا رہے ہیں۔ یوں پاکستان کے یہ بچوں کے رسالے دنیا کے ان گنتی کے چند رسالوں میں شمار ہوتے ہیں جو مسلسل 50 سال سے شائع ہو رہے ہیں۔ دل چسپ بات یہ کہ ان پانچ قدیم ترین رسالوں میں سے تین اس وقت ایک ہی ادارے محمد فہیم عالم کی سرپرستی میں بچوں کا کتاب گھر کے تحت شائع ہو رہے ہیں۔
ماہنامہ بچوں کا باغ اپریل 1975ء میں ایم یوسف نے شروع کیا، جو خود پہلے ماہنامہ بچوں کی دنیا میں تصاویر بناتے تھے۔ دسمبر 1968ء کے ماہنامہ بچوں کی دنیا میں محمد یوسف کو رسالے کا چیف آرٹسٹ لکھا گیا ہے۔
بچوں کا باغ کی ادارت کے ان 50 برسوں میں، اب تک مدیر اعلیٰ کے منصب پر ایم یوسف کے علاوہ عبید اللہ محمود، عنایت اللہ اور محمد فہیم عالم خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ جب کہ بطور مدیر عنایت اللہ محمود، سلطان محمود، کلثوم بانو، غزالہ شبنم، تاج انصاری، سلطان محمد تنولی اور نعمان شیخ ; جب کہ اعزازی مدیران میں شازیہ ستار نایاب، ناصر زیدی، خالدہ نوشین اور شازیہ نورنے خدمات سر انجام دی ہیں۔
35 سال سے زیادہ عرصہ محمد یوسف مدیر رہے اور پابندی سے رسالہ شائع ہوتا رہا، ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے نے یہ ذمہ داری نبھائی۔ پھر انھوں نے رسالہ تاج انصاری و سلطان محمد تنولی کے سپرد کر دیا، آخرکار 2018ء میں رسالے کے حقوق اشاعت محمد فہیم عالم نے خرید لیے، پھر 2020ء میں کورونا کی وبا آئی جس دوران میں تین شماروں کی کاغذی اشاعت نہ ہو سکی، کورونا کی وجہ سے رسالے پر برا وقت آیا اور تعداد اشاعت متاثر ہوئی۔
شروع میں رسالے پر ماہنامہ بچوں کی دنیا کی گہری چھاپ تھی، مگر اس میں بچوں کی دنیا کی بنسبت لکھنے والے چند مخصوص مصنفین ہی تھے، جن میں سے آدھے رسالے سے منسلک تھے۔ رسالے نے بچوں کی دنیا میں شائع ہونے والے مشہور زمانہ سلسلے ننھے کے کارنامے کی طرز پر منے کی کہانی شروع کی، جو ایم یوسف اور عبید اللہ محمود لکھا کرتے تھے، مزے کی بات یہ کہ اس کے مرکزی کردار کی تصویر ٹھیک وہی شائع ہوتی، جو اصل میں بچوں کی دنیا رسالے کے ننھے کے کارنامے والے ننھے کی تھی۔ بعد میں ایک سلسلہ وار کہانی فولادی میاں شروع ہوئی، جس کو ایم یوسف لکھا کرتے، یہ بیس سال سے زیادہ عرصہ شائع ہوتی رہی۔۔ سراج انور کا مقبول ناول کالی دنیا بھی قسط وار رسالے میں شائع ہوا۔ خود ایم یوسف نے کئی قسط وار کہانیاں لکھیں، جو بعد ازاں کتابی صورت میں بھی الگ سے شائع ہوئیں۔ جس سے ان کہانیوں کی مقبولیت کا پتا چلتا ہے۔ دیگر مشہور قسط وار ناولوں و کہانیوں میں ٹلو میاں ،ٹنکو منکو، طا‍‍‌وس،چھلاوا، کانچ کے ہاتھی ، سیارے کے جادو گر، اچھن الن، اور بڈاوا وغیرہ ہیں، چھلاوا کو ادارہ بچوں کا کتاب گھر جمع کر رہا ہے۔ جو آپ بھی پڑھ سکیں گے۔ چھلاوا اتنا مقبول ہوا کہ 1993ء میں اسی ناول کو مکرر شائع کرنا شروع کیا گیا۔
رسالے کی روایت تھی کہ ہر سال اپریل میں خاص نمبر شائع ہوتا تھا۔ البتہ ابتدئی سالوں میں خاص نمبر جنوری میں شائع ہوتا رہا۔اس کے علاوہ رسالے نے ماضی میں خوفناک نمبر، حقوق اطفال نمبر، آزادی نمبرجب کہ حالیہ عرصے میں موجودہ انتظامیہ نے بھوت نمبر، امی نمبر، خواب نمبر، پراسرار نمبر شائع کیے ہیں اورجولائی 2023ء میں الف لیلہ نمبر، 2024ء میں اے آئی نمبر اور اس مہینے پراسرار کہانی نمبر شائع ہوا ہے۔
پرانے شماروں کے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ بچوں کا باغ، شروع میں دیگر رسائل جیسا تھا، جس میں جاسوسی، سائنس فکشن، تاریخی، اسلامی، اخلاقی، اور جنوں پعیوں کی کہانیان شائع ہوتیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رسالہ کا معیار گرتا گیا، اور ایک وقت ایسا کہ نوے کی دہائی کے آواخر میں یہ جنوں پریوں کی کہانیوں کا رسالہ بن چکا تھا۔ دیگر سلسلوں میں سوال جواب کا سلسلہ، لطائف، قلمی دوستی وغیرہ تھے۔ البتہ موجودہ دور میں، اس میں اسلامی کہانیاں، تاریخی قسط وار ناول، مزاحیہ کہانیاں، سائنس فکشن، تراجم، انٹرویو، معلوماتی مضامین بھی شائع ہوتے ہیں۔
رسالہ بچوں کا باغ میں رحمان مذنب، ظہور الدین بٹ، محمد غزالی، ڈاکٹر انور، سراج انور، شازیہ ستار نایاب، ایم ایس ناز، عمیر یوسف، عبید اللہ محمود، کوکب کاظمی، اسرار زیدی، سیما علی،غلام محمد فاروق، سیماں، وجہیہ عبید، رابعہ رحمان، عنایت اللہ، نذیر ہاشمی، کلثوم بانو، غزالہ شبنم، ظفر محمود انجم، امان اللہ نئیر شوکت، مقبول احمد دہلوی، عابد نظامی، ناصر زیدی اور دیگر کئی معروف لکھنے والوں کا قلمی تعاون حاصل رہا ہے۔ سالگرہ نمبر میں کبھی کبھی معروف ادیبوں کی کہانیاں و نظمیں بھی ملتی ہیں، 1989ء میں واجدہ تبسم کی کہانی شائع ہوئی، جب کہ رسالے میں صوفی تبسم کی ٹوٹ بٹوٹ کی ایسی نظم مجھے ملی، جو ان کے کسی مجموعے میں تو اب تک شامل نہیں ہو سکی، البتہ وہ نظم اس سے قبل صرف پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ماہنامے اطفال کے اکتوبر 1974ء کے ایک شمارے میں شائع ہوئی تھی۔